جے پور، 24؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) راجستھان کے نائب وزیر اعلی اور راجستھان ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر سچن پائلٹ نے آج وزیر اعظم نریندر مودی کی ٹونک کی تقریر کو پانچ سالوں کی بی جے پی حکومت کی ناکامی سے پیدا ہوئی ان کی مایوسی کی علامت قرار دیا ہے۔
سچن پائلٹ نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم ہونے کے باوجود اپنی مدت کے آخری مرحلے پر بھی عوام کے تئیں اپنی جوابدہی یقینی بنانے کی بجائے کانگریس پارٹی کو کوس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور سابق وزیر اعلی وسندھرا راجے نے جس طرح کے بیان دیئے ہیں، اس سے واضح ہو گیا ہے کہ وہ آئندہ لوک سبھا انتخابات کے سلسلے میں پوری طرح مایوس ہو چکے ہیں اور ایک بار پھر اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے بے ضبط بیان بازی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام وزیر اعظم سے ان کے کئے گئے وعدوں کا حساب مانگ رہے ہیں جس کے برعکس وہ عوام کو ورغلانے کا کام کر رہے ہیں۔ پائلٹ نے کہا کہ وزیر اعظم نے جتنے بھی دعوے کئے ہیں اس میں ذرا بھی حقیقت نہیں ہے، کیونکہ گزشتہ پانچ سالوں میں ملک کی اندرونی اور بیرونی سیکورٹی پر جس سطح پر سمجھوتہ ہوا ہے، اس سے ملک کے عوام کا اعتماد بی جے پی حکومت سے اٹھ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کی معیشت پٹري سے اتر چکی ہے، قانون و انتظام کی صورتحال ناقص ہے اور کسان بی جے پی کی حکومت میں خود کشی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے کسانوں کے قرض معافی کا حساب مانگنے والے وزیر اعظم بتائیں کہ ان کے دور حکومت میں کسانوں کو انتہائی قدم اٹھانے پر کیوں مجبور ہونا پڑا ہے۔
پائلٹ نے کہا کہ وزیر اعظم نے کانگریس کی ریاستی حکومت کی کسان قرض معافی کی اسکیم پر سوال اٹھائے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فروری سے شروع کی گئی قرض معافی کی اسکیم کے تحت گزشتہ 15 دنوں میں 16 لاکھ 50 ہزار کسانوں کے دو لاکھ روپے تک کی قرض معافی کے چھ ہزار کروڑ روپے کی درخواست کو اپ لوڈ کرنے کے بعد 11 لاکھ کسانوں کی آدھار پر مبنی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے آٹھ لاکھ کسانوں کے قرض معافی سرٹیفکیٹ جاری بھی کئے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے صرف 500 کروڑ کی ملک گیر ’كام دھینو‘ اسکیم کی بات کہی جبکہ راجستھان کی کانگریس حکومت نے آر سی ڈی ایف کو دودھ فراہم کرنے والے کسانوں کو دو روپے لیٹر کا وہ بونس دینا دوبارہ شروع کر دیا ہے جسے بی جے پی کی حکومت نے بند کر دیا تھا۔ پائلٹ نے کہا کہ اجولا یوجا کی کامیابی گنوانے والے وزیر اعظم اچھی طرح جانتے ہیں کہ آدھے سے زیادہ صارفین دوبارہ سلیڈر بھروانے کے قابل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھا ہوتا کہ وزیر اعظم حقیقت قبول کر لیتے کہ ان مقبولیت اور ومعتبریت اب ختم ہو چکی ہے اور کانگریس پر تنقید سے انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونے والا ہے۔